The figure of faith and the motto of Hazrat Ibrahim (peace be upon him).

پیکر وفاوشعار حضرت ابرہیم علیہ السلام

ابو الانبیاء حضرت ابرہیم سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا
تورات میں آ پ کا نام ابرام اور ابراہم دونوں طرح آ یا ہے
تورات میں آ پ کی عمر مبارک 175سال درج ہےآ پکا آ بائی وطن بابل ہے جسے آ ج کل عراق کہا جاتا ہے۔

بات کرتے ہیں حضرت ابرہیم علیہ السلام کے امتحانات کی۔

وہ امتحانات کیا تھےجن سے حضرت ابرہیم علیہ السلام کو آ زمایا گیا
میں بتاتی ہوں وہ امتحانات کیا تھےجن سے حضرت ابرہیم علیہ السلام کو آ زمایا گیا
وہ امتحانات آ ساں نہ تھے بلکہ ایسے کٹھن تھے کہ جن سے ان کے علاوہ کسی کو نہیں آ زمایا گیاوہ امتحانات جو گزرے سو گزرے اور ایک ہنستا کھیلتا بچہ جب آ پ کی آ غوش میں آ یا تو ایک نئی آ زمائش کا آغازہوااور حکم ہو اے ابراہیم کہ اس معصوم اسمئیل کو اور اپنی زوجہ محترمہ کو جنہوں نے زندگی بھر ہر کٹھن آ زمایش میں آ پ کا ساتھ دیا ان کو عرب کے آ ب و گیار ریگستان میں تن تنہا چھوڑ آ واس کٹھن آ زمایش میں بھی آ پ نے اپنے رب کے حکم پر لبیک کہا اور حکم کی تعمیل کی

اور جب یہ معصوم بچہ جوانی کی عمر کو پہنچاتو اسکے بوڑھے باپ حضرت ابرہیم علیہ السلام کو ایک اور آ زمایش کا سامنا کرنا پڑا وہ اکلوتا نوجوان بیٹاجو اپنے ماں باپ کی آ نکھوں کا تارہ ہوتا ہے جو اپنے بوڑھے ماں باپ کی امیدوں کا سہارا ہوتا ہے عمر بھر کی کمائی ہوتا ہے اسکے بارے میں حکم نازل ہوتا ہے کہ
اے ابراہیم اپنے لخت جگر کو ہماری راہ میں قربان کر دو
یہاں بھی حضرت ابرہیم علیہ السلام پیکر وفاوشعار بن کر اپنے پاک پروردگار کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے ہیں اور آ پنے گوشہء جگر کو قربان کرنے کے لیے زمین پر لٹا دیتے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے ڈھانپ لیتا ہے اور ان کی نیت کو قبول فرما لیتا ہے

نشان سجدہ پہ بہت غرور نہ کرنا وہ نیتوں سے نتیجہ نکال لیتا

وہ مقام مقدسہ یعنی مکہ مکرمہ جہاں آ پ کو نہایت کٹھن اور سخت آ نمائشوں کا سامنا کرنا پڑا وہیں پر ایک پیارا خوبصورت اور دل موہ لینے والا حکم ہوا

اے ابراہیم میرا گھر بناواور اسے ہر آ لائش سے ہر آلودگی سے پاک صاف رکھو اس کا فرش غبار سے اسکی دیواریں بد نما دھبوں سے اور اسکی چھتیں مکڑی کے جالوں سے نہ اٹی رہیں
بلکہ اجلا فرش شفاف آ ئینہ دار دیواریں اور پاک صاف چھتیں ہوں تاکہ عبادت کرنے والوں کو دل جمعی نصیب ہواوروہ اطمینان سے اپنے رب کو یاد کرتے رہیں جب ظاہری پاکیزگی کا اتنا اہتمام ہو رہا ہے تو کفر و شرک کی غلاظت و عفو نیت سے پاک رکھنا کتنا اہم ہو گا
بے شک ظاہر و باطن دونوں کو ہی پاک صاف رکھناضروری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *