Ishq Murshid – Episode 29 – Muft Maloomat

Ishq Murshid - Episode 29

Ishq Murshid – Episode 29 Wa – Hum tv drama Watch on Muft Maloomat

IshQ murshid Next Episode 30 Review in Urdu:

 

عشق مرشد کی اگلی قسط، نمبر 30، میں کچھ دلچسپ اور پرجوش واقعات ہونے کا امکان ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا ہو سکتا ہے

شبرا، اپنے والد کی بے قصوریت پر یقین رکھتے ہوئے، شاہ میر سے التجا کرتی ہے کہ وہ اسے رہا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔ وہ اسے بتاتی ہے کہ وہ اپنے والد کے بغیر نہیں رہ سکتی اور اس کی رہائی اس کے لیے سب سے اہم چیز ہے۔

شاہ میر، اپنے سسر سے محبت کرنے اور اس کی عزت کرنے کے ساتھ ساتھ، شبرا کی محبت کے لیے بھی پرعزم ہے۔ وہ جانتا ہے کہ سلیمان احمد بے قصور ہیں اور انہیں رہا ہونا چاہیے۔ اس لیے، وہ شبرا کے ساتھ مل کر ثبوت تلاش کرنے اور اس کیس کو حل کرنے کے لیے اپنی جان لگا دیتا ہے۔یہ ابھی تک ایک  رازہے کہ سلیمان احمد کو رنگے  ہاتھوں رشوت میں پکڑوانے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ تاہم، کچھ امکانات ہیں

داؤد، ایک طاقتور سیاسی رہنما ، شاہ میر کا دشمن ہے۔ وہ شاہ میر کو کمزور کرنے اور اسے سیاسی میدان سے باہر کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ داؤد کے لیے، سلیمان احمد کو پکڑوانا شاہ میر کو نقصان پہنچانے کا ایک بہترین طریقہ ہو سکتا ہے۔

سلمان احمد کے کئی سیاسی حریف ہیں جو اسے اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ ان حریفوں میں سے ایک نے سلیمان احمد کو پکڑنے کے لیے ایک منصوبہ بنایا ہو سکتا ہے تاکہ اسے بدنام کیا جا سکے اور اس کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

See also  Tera mera hai pyar amar - Ishq Murshid Song

یہ بھی ممکن ہے کہ سلیمان احمد کا کوئی ذاتی دشمن ہو جو اس سے بدلہ لینا چاہتا ہو۔ اس دشمن نے سلیمان احمد کو پکڑوانےکے لیے ایک منصوبہ بنایا ہو سکتا ہے تاکہ اسے تکلیف پہنچائی جا سکے اور اس کی زندگی تباہ کی جا سکے۔

شاہ میر، اپنے والد داؤد اور ان کے دوست ہارون بیگ سے سلیمان احمد کے بارے میں سوالات پوچھ سکتا ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ کیا انہیں سلیمان احمد کے رشوت لینے کے بارے میں کوئی علم تھا۔ وہ ان سے یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ انہیں کیا لگتا ہے کہ سلیمان احمد کو کس نے پکڑایا۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ شاہ میر اپنے سسر کو باعزت بری کروا لے گا یا نہیں۔ اس کی کامیابی بہت سے عوامل پر منحصر ہوگی، بشمول اس کے ثبوت جمع کرنے کی صلاحیت، داؤد اور اس کے حریفوں کی طاقت،

اورقانون انصاف کا نظام ہو سکتا ہے

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *